Sunan At-Tirmidhi 3711صحیح
حدیث نمبر: 3711
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِيأَبُو سَهْلَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عُثْمَانُ يَوْمَ الدَّارِ:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا فَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ.
ابوسہلہ کا بیان ہے کہ عثمان (رض) نے مجھ سے جس دن وہ گھر میں محصور تھے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد لیا تھا اور میں اس عہد پر صابر یعنی قائم ہوں ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے جانتے ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٣) (تحفة الأشراف : ٩٨٤٣) (صحیح)
وضاحت : ١ ؎ : اس عہد سے مراد یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ تم کو ایک کرتا پہنائے گا ، لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں گے ، تو مت اتارنا ، ( اس سے خلافت کا کرتا مراد ہے ) اسی لیے عثمان شہید (رض) ہوگئے مگر خلافت سے دستبردار نہیں ہوئے کیونکہ آپ بفرمان رسالت مآب حق پر تھے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (113)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3711
Abu Sahlah reported: When Uthman was beseiged in his house, he said to me,”Surely Allah’s Messenger ﷺ had taken a promise from me. So, lam patient over it.