Sunan At-Tirmidhi 1727صحیح

دباغت کے بعد مردار جانور کی کھال

حدیث نمبر: 1727
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ:‏‏‏‏ مَاتَتْ شَاةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِهَا:‏‏‏‏ أَلَا نَزَعْتُمْ جِلْدَهَا ثُمَّ دَبَغْتُمُوهُ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ .
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک بکری مرگئی، رسول اللہ ﷺ نے بکری والے سے کہا : تم نے اس کی کھال کیوں نہ اتار لی ؟ پھر تم دباغت دے کر اس سے فائدہ حاصل کرتے ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٥٩٦٩) ، وانظر : صحیح البخاری/الزکاة ٦١ (١٤٩٢) ، والبیوع ١٠١ (٢٢٢١) ، والذبائح ٣٠ (٥٥٣١، ٥٥٣٢) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٧ (٣٦٣-٣٦٥) ، سنن ابی داود/ اللبا ٤١ (٤١٢١) ، سنن النسائی/الفرع ٤ (٤٢٤٠-٤٢٤٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٥ (٣٦١٠) ، وط/الصید ٦ (١٦) ، مسند احمد (١/٢٣٧) ، ٣٢٧، ٣٣٠، ٣٦٥، ٣٦٦، ٣٧٢) ، سنن الدارمی/الأضاحي ٢٠ (٢٠٢٨) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ مردہ جانور کی کھال سے فائدہ دباغت (پکانے) کے بعد ہی اٹھایا جاسکتا ہے ، اور ان روایتوں کو جن میں دباغت (پکانے) کی قید نہیں ہے ، اسی دباغت والی روایت پر محمول کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3609 - 3610 )
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1727
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that when a sheep died, (a natural death) the Prophet ﷺ I said to its owners, “Why did you not remove its skin. You could have tanned it and benefitted from it.”