Sunan At-Tirmidhi 2400صحیح
بینائی زائل ہونے کے متعلق
حدیث نمبر: 2400
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو ظِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْ عَبْدِي فِي الدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ جَزَاءٌ عِنْدِي إِلَّا الْجَنَّةَ ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو ظِلَالٍ اسْمُهُ: هِلَالٌ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میں اپنے بندے کی پیاری آنکھیں چھین لیتا ہوں تو میرے پاس اس کا بدلہ صرف جنت ہی ہے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ اور زید بن ارقم (رض) سے احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المرضی ٧ (تعلیقا عقب حدیث رقم ٥٦٥٣، وھو أیضا عن أنس نحوہ) (تحفة الأشراف : ١٦٤٣) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : انسان کو جو نعمتیں رب العالمین کی جانب سے حاصل ہیں ، ان میں آنکھ ایک بڑی عظیم نعمت ہے ، یہی وجہ ہے کہ رب العالمین جب کسی بندے سے یہ نعمت چھین لیتا ہے اور بندہ اس پر صبر و رضا سے کام لیتا ہے تو اسے قیامت کے دن اس نعمت کے بدل میں جس چیز سے نوازا جائے گا وہ جنت ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (4 / 155 و 156)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2400
Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said that Allah said ,” If I take away the two eyes of My slave in the world then the reward for him with me cannot be but Paradise.” [Bukhari 5653]