Sunan At-Tirmidhi 2373صحیح
غناء درحقیقت دل سے ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2373
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ قُرَيْشٍ الْيَامِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو حَصِينٍ اسْمُهُ: عُثْمَانُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَسَدِيُّ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مالداری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے، بلکہ اصل مالداری نفس کی مالداری ہے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ١٥ (٦٤٤٦) ، صحیح مسلم/الزکاة ٤٠ (١٠٥١) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٣٧) (تحفة الأشراف : ١٢٨٤٥) ، وحإ (٢/٢٤٣، ٢٦١، ٣١٥، ٣٩٠، ٤٣٨، ٤٤٣، ٥٣٩، ٥٤٠) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : انسان کے پاس جو کچھ ہے اسی پر صابر و قانع رہ کر دوسروں سے بےنیاز رہنا اور ان سے کچھ نہ طلب کرنا درحقیقت یہی نفس کی مالداری ہے ، گویا بندہ اللہ کی تقسیم پر راضی رہے ، دوسروں کے مال و دولت کو للچائی ہوئی نظر سے نہ دیکھے اور زیادتی کی حرص نہ رکھے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4137)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2373
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said “Richness does not lie in abundant wealth and property, but richness is the richness at hear (contentment of heart). [Ahmed 7320, Bukhari 6446, Muslim 1051, Ibn e Majah4137]