Sunan At-Tirmidhi 2334صحیح
امیدوں کے کم ہونے کے متعلق
حدیث نمبر: 2334
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ وَوَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ قَفَاهُ ثُمَّ بَسَطَهَا، فَقَالَ: وَثَمَّ أَمَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ ابن آدم ہے اور یہ اس کی موت ہے ، اور آپ نے اپنا ہاتھ اپنی گدی پر رکھا پھر اسے دراز کیا اور فرمایا : یہ اس کی امید ہے، یہ اس کی امید ہے، یہ اس کی امید ہے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو سعید خدری (رض) سے بھی روایت ہے۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٧ (٤٢٣٢) (تحفة الأشراف : ١٠٧٩) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : مفہوم یہ ہے کہ ابن آدم کی زندگی کی مدت بہت مختصر ہے ، موت اس سے قریب ہے ، لیکن اس کی خواہشیں اور آرزوئیں لامحدود ہیں ، اس لیے آدمی کو چاہیئے کہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنی مختصر زندگی کو پیش نظر رکھے ، اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانے کی فکر کرے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4232)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2334