Sunan At-Tirmidhi 3056صحیح
تفسیر سورت مائدہ
حدیث نمبر: 3056
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ أَنَسٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَبِي ؟ قَالَ: أَبُوكَ فُلَانٌ، فَنَزَلَتْ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا باپ کون ہے ١ ؎ آپ نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے، راوی کہتے ہیں : پھر یہ آیت نازل ہوئی : «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لکم تسؤكم» اے ایمان والو ! ایسی چیزیں مت پوچھا کرو کہ اگر وہ بیان کردی جائیں تو تم کو برا لگے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر المائدة ١٢ (٤٦٢١) ، والاعتصام ٣ (٧٢٩٥) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٧ (٢٣٥٩) (تحفة الأشراف : ١٦٠٨) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : یہ عبداللہ بن حذافہ سہمی ہیں ، سوال اس لیے کرنا پڑا کہ لوگ انہیں غیر باپ کی طرف منسوب کر رہے تھے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3056
Sayyidina Anas (RA) narrated: A man asked, “O Messenger of Allah ﷺ , who is my father?” He said, “Your father si so-and-so.” Then the verse. "O you who believe! Question not about things which, if they were disclosed to you, would annoy you." (5 :101) was revealed. [Bukhari 4621,Muslim 2359,Ahmed 13146]