Sunan At-Tirmidhi 3034صحیح
سورت نساء کی تفسیر کے بارے میں
حدیث نمبر: 3034
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍيُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ: أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا سورة النساء آية 101، وَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ، فَقَالَ عُمَرُ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللَّهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
یعلیٰ بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عمر (رض) سے کہا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : «أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يفتنکم» تم پر نمازوں کے قصر کرنے میں کوئی گناہ نہیں، اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں پریشان کریں گے (النساء : ١٠١ ) ، اور اب تو لوگ امن و امان میں ہیں (پھر قصر کیوں کر جائز ہوگی ؟ ) عمر (رض) نے کہا : جو بات تمہیں کھٹکی وہ مجھے بھی کھٹک چکی ہے، چناچہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا : یہ اللہ کی جانب سے تمہارے لیے ایک صدقہ ہے جو اللہ نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، پس تم اس کے صدقے کو قبول کرلو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المسافرین ١ (٦٨٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٧٠ (١١٩٩) ، سنن النسائی/تقصیر الصلاة ١ (١٤٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٧٣ (١٠٦٥) (تحفة الأشراف : ١٠٦٥٩) ، و مسند احمد (١/٢٥، ٣٦) ، وسنن الدارمی/الصلاة ١٧٩ (١٥٤٦) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1065)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3034
Yala ibn Umayyah narrated : I said to Umar (RA) that Allah has said:Shorten the salah if you fear. (4 : 101) “But people experience peace now.’ (How is allowed to shorten prayers now)? Umar (RA) said, “I too had wondered as you wonder now, so I mentioned that to Allah’s Messenger ﷺ . He said to me : This is charity that Allah has bestowed on you, so accept His charity.” [Ahmed 175,Muslim 686,Abu Dawud 1199, Ibn e Majah 1065]