Sunan At-Tirmidhi 2997صحیح
سورت آل عمران کے متعلق
حدیث نمبر: 2997
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 أَوْ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا سورة البقرة آية 245، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ، وَكَانَ لَهُ حَائِطٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَائِطِي لِلَّهِ، وَلَوِ اسْتَطَعْتُ أَنْ أُسِرَّهُ لَمْ أُعْلِنْهُ، فَقَالَ: اجْعَلْهُ فِي قَرَابَتِكَ أَوْ أَقْرَبِيكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت : «لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون» ١ ؎ یا «من ذا الذي يقرض اللہ قرضا حسنا» ٢ ؎ نازل ہوئی۔ اس وقت ابوطلحہ (رض) کے پاس ایک باغ تھا، انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرا باغ اللہ کی رضا کے لیے صدقہ ہے، اگر میں اسے چھپا سکتا (تو چھپاتا) اعلان نہ کرتا ٣ ؎ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے اپنے رشتہ داروں کے لیے وقف کر دو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کو مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ کے واسطہ سے انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر : صحیح البخاری/الزکاة ٤٤ (١٤٦١) ، والوکالة ١٥ (٢٣١٨) ، والوصایا ١٧ (٢٧٥٨) ، وتفسیر آل عمران ٥ (٤٥٥٤) ، والأشربة ١٣ (٥٦١١) ، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (٩٩٨) (تحفة الأشراف : ٧٠٤، و ٢٠٤) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز سے اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو گے ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے (آل عمران : ٩٢ ) ۔ ٢ ؎ : ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے (البقرہ : ٢٤٥ ) ۔ ٣ ؎ : کیونکہ چھپا کر صدقہ و خیرات کرنا اللہ کو زیادہ پسند ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1482)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2997
Sayyidina Anas (RA) reported about this verse: "You cannot attain virtue unless you expend of that which you love." (3:92) or, this verse: - "Who is he that will loan to Allah a goodly loan." (2 :245) When it was revealed, Abu Talhah (RA) who had a garden, said, “O Messenger of Allah ﷺ ’ My garden is for Allah. If I could, I would have kept it a secret and not announced.” He said, “Give it to your relatives.” [Ahmed 12441,Bukhari 1461,Muslim 998,Abu Dawud 1689,Nisai 3601]