Sunan At-Tirmidhi 2649صحیح
علم کو چھپانا
حدیث نمبر: 2649
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ قُرَيْشٍ الْيَامِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سُئِلَ عَنْ عِلْمٍ عَلِمَهُ ثُمَّ كَتَمَهُ أُلْجِمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ ، وفي الباب عن جَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس سے علم دین کی کوئی ایسی بات پوچھی جائے جسے وہ جانتا ہے، پھر وہ اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام پہنائی جائے گی ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ العلم ٩ (٣٦٥٨) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٤ (٢٦١) (تحفة الأشراف : ١٤١٩٦) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے معلوم ہو کہ علم دین سے متعلق سوال کرنے والے کو دین کی صحیح بات نہ بتلانا یا دین کی معلومات حاصل کرنے سے متعلق و سائل (مثلاً کتابوں وغیرہ) کا انکار کردینا سخت وعید اور گناہ کا باعث ہے ، اسی طرح دین کے صحیح مسائل کو اس کی جانکاری کے باوجود چھپانا اور لوگوں کے سامنے واضح نہ کرنا باعث گناہ ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (264)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2649
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone is asked about a knowledge that he knows but conceals then, on the Day of Resurrection, he will be restrained with reins of fire.” [Abu Dawud 658,Ibn Majah 264, Ahmed 7574]