Sunan At-Tirmidhi 64صحیح
عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی کراہت کے بارے میں
حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا حَاجِبٍيُحَدِّثُ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ، أَوْ قَالَ: بِسُؤْرِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَأَبُو حَاجِبٍ اسْمُهُ: سَوَادَةُ بْنُ عَاصِمٍ، وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ فِي حَدِيثِهِ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَوَضَّأَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ طَهُورِ الْمَرْأَةِ ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ.
حکم بن عمرو غفاری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کو منع فرمایا ہے، یا فرمایا : عورت کے جھوٹے سے وضو کرے۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور محمد بن بشار اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا کہ مرد عورت کے وضو سے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے ١ ؎، اور محمد بن بشار نے اس روایت میں - «أو بسؤرها» والا شک بیان نہیں کیا ٢ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : انظرما قبلہ (صحیح)
وضاحت : ١ ؎ : اس نہی سے نہی تنزیہی مراد ہے ، یعنی نہ استعمال کرنا بہتر ہے ، اس پر قرینہ وہ احادیث ہیں جو جواز پر دلالت کرتی ہیں ، یا یہ ممانعت محمول ہوگی اس پانی پر جو اعضائے وضو سے گرتا ہے کیونکہ وہ «ماء» مستعمل استعمال ہوا پانی ہے۔ ٢ ؎ : مطلب یہ کہ محمود بن غیلان کی روایت شک کے صیغے کے ساتھ ہے اور محمد بن بشار کی بغیر شک کے صیغے سے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (63)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 64
Sayyidina Hakam ibn Amr Ghifari (RA) narrated that the Prophet ﷺ disallowed man to make ablution with the water remaining after a woman has made ablution bath) from it. Or, he disallowed her left-over after drinking.