Sunan At-Tirmidhi 2071صحیح

کاہن کی اجرت

حدیث نمبر: 2071
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابومسعود انصاری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے لینے سے منع فرمایا ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١١٣٣، ١٢٧٦ (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : غیب کا علم صرف رب العالمین کے لیے خاص ہے ، اس کا دعویٰ کرنا بہت بڑا گناہ ہے ، اسی لیے اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی باطل اور غلط طریقے سے جو مال لوگوں سے حاصل کرتے ہیں ، وہ حرام ہے ، زنا معصیت اور فحش کے اعمال میں سے سب سے بدترین عمل ہے ، اس لیے اس سے حاصل ہونے والی اجرت ناپاک اور حرام ہے ، کتا ایک نجس جانور ہے اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ جس برتن میں یہ منہ ڈال دے شریعت نے اسے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا ہے ، اسی لیے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے ، سوائے اس کے کہ گھر ، جائیداد اور جانوروں کی حفاظت کے لیے ہو۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2159)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2071
Sayyidina Ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ forbade sale price of the dog, dower of adultery and wages of the soothsayers.” [Bukhari 2237] --------------------------------------------------------------------------------