Sunan At-Tirmidhi 2057صحیح

تعویذ اور دم وغیرہ کی اجازت

حدیث نمبر: 2057
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنِالشَّعْبِيِّ، عَنْ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏بِمِثْلِهِ.
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جھاڑ پھونک صرف نظر بد اور پسلی میں نکلنے والے دانے کی وجہ سے ہی جائز ہے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : شعبہ نے یہ حدیث «عن حصين عن الشعبي عن بريدة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطب ١٧ (٣٨٨٤) ، وأخرجہ البخاري في الطب ١٧ (٥٧٠٥) موقوفا علی عمران بن حصین رضي اللہ عنہ (تحفة الأشراف : ١٠٨٣٠) ، وانظر مسند احمد (٤/٤٣٦، ٤٣٨، ٤٤٦) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : اس کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کسی اور بیماری میں جھاڑ پھونک جائز نہیں ہے ، کیونکہ ان کے علاوہ میں جھاڑ پھونک احادیث سے ثابت ہے ، اس لیے اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ ان دونوں میں جھاڑ بھونک زیادہ مفید اور کار آمد ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (4557)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2057
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Ruqyah is not allowed except for an evil eye or scorpion-sting.” [Ahmed 19929] --------------------------------------------------------------------------------