Sunan At-Tirmidhi 2055صحیح
تعویذ اور جھاڑ پھونک کی ممانعت
حدیث نمبر: 2055
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَقَّارِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اكْتَوَى أَوِ اسْتَرْقَى فَقَدْ بَرِئَ مِنَ التَّوَكُّلِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے بدن داغا یا جھاڑ پھونک کرائی وہ توکل کرنے والوں میں سے نہ رہا ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن مسعود، ابن عباس اور عمران بن حصین (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الطب ٢٣ (٣٤٨٩) (تحفة الأشراف : ١١٥١٨) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : شرکیہ الفاظ یا ایسے الفاظ جن کے معنی و مفہوم واضح نہ ہوں ان کے ذریعہ جھاڑ پھونک ممنوع ہے ، ماثور الفاظ کے ساتھ جھاڑ پھونک جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3489)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2055
Sayyidina Mughirah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who has himself cauterized (branded or seared) or uses a spell then he is absolved of trust in Allah.” [Ibn Majah 3489] --------------------------------------------------------------------------------