Sunan At-Tirmidhi 1147صحیح
نسب سے حرام رشتے رضاعت سے بھی حرام ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 1147
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَامَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا حَرَّمَ مِنَ الْوِلَادَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافًا.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے رضاعت سے بھی وہ تمام رشتے حرام قرار دے دیئے ہیں جو ولادت (نسب) سے حرام ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- صحابہ وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ان کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف ہے۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ النکاح ٧ (٢٠٥٥) ، سنن النسائی/النکاح ٤٩ (٣٣٠٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٦٣٤٤) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٨ (٢٢٩٥) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/الشہادات ٧ وفرض الخمس ٤ (٣١٠٥) ، والنکاح ٢٠ (٥٠٩٩) و ٢٧ (٥١١١) ، صحیح مسلم/الرضاع ٢ (١٤٤٤) ، سنن النسائی/النکاح ٤٩ (٣٣٠٣، ٣٣٠٤، ٣٣٠٥) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٣٤ (١٩٣٧) ، موطا امام مالک/الرضاع ١ (٣) ، مسند احمد (٦/٦٦، ٧٢، ١٠٢) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٨ (٢٢٩١، ٢٢٩٢) ، من غیر ہذا الوجہ۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1937)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1147
Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Indeed, Allah had forbidden by reason of fosterage what he has forbidden by reason of parentage”. [Ahmed 25508, Nisai 5099, Muslim 1444, Nisai 3300]