Sunan At-Tirmidhi 1405صحیح
مقتول کے ولی کو اختیار ہے چاہے تو قصاص لے ورنہ معاف کردے
حدیث نمبر: 1405
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يَعْفُوَ، وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْرٍو.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب اللہ نے اپنے رسول کے لیے مکہ کو فتح کردیا تو آپ ﷺ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا : جس کا کوئی شخص مارا گیا ہو اسے دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے : یا تو معاف کر دے یا (قصاص میں) اسے قتل کرے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے (کماسیأتی) ، ٢ - اس باب میں وائل بن حجر، انس، ابوشریح اور خویلد بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١٢) ، واللقطة ٧ (٢٤٣٤) ، والدیات ٨ (٦٨٨٠) ، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٥) ، سنن ابی داود/ الدیات ٤ (٤٥٠٥) ، سنن النسائی/القسامة ٣٠ (٤٧٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣ (٢٦٢٤) ، ویأتي في العلم برقم ٢٦٦٧، (تحفة الأشراف : ١٥٣٨٣) ، و مسند احمد (٢/٢٣٨) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2624)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1405
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that when Allah gave victory to His Messenger ﷺ over Makkah, he stood among the people, praised Allah and glorified Him, and said thereafter, ‘If someone’s man is killed then he has a choice of two things either to pardon or to kill (the murderer).” [Bukhari 2434, Muslim 13551