Sunan At-Tirmidhi 3501ضعیف
باب
حدیث نمبر: 3500
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عُمَرَ الْهِلَالِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي السَّلِيلِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ دُعَاءَكَ اللَّيْلَةَ فَكَانَ الَّذِي وَصَلَ إِلَيَّ مِنْهُ أَنَّكَ تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَوَسِّعْ لِي فِي رِزْقِي، وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي، قَالَ: فَهَلْ تَرَاهُنَّ تَرَكْنَ شَيْئًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو السَّلِيلِ اسْمُهُ ضُرَيْبُ بْنُ نُفَيْرٍ وَيُقَالُ: ابْنُ نُقَيْرِ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے آج رات آپ کی دعا سنی، میں نے آپ کی جو دعا سنی وہ یہ تھی : «اللهم اغفر لي ذنبي ووسع لي في داري وبارک لي فيما رزقتني» اے اللہ ! میرے گناہ بخش دے اور میرے گھر میں کشادگی دے، اور میرے رزق میں برکت دے ، آپ نے فرمایا : کیا ان دعائیہ کلمات نے کچھ چھوڑا ؟ (یعنی ان میں دین دنیا کی سبھی بھلائیاں آ گئی ہیں) ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٣٥١٢) (ضعیف) (دعا کا حصہ حسن ہے، بقیہ ضعیف، سند میں راوی ” سعید بن ایاس جریری “ مختلط ہوگئے تھے، اور ” عبد الحمید الھلالی “ بہت غلطیاں کرتے تھے، مگر نفس اس دعاء کے الفاظ ابوموسیٰ (رض) کی روایت سے تقویت پا کر دعا کا ٹکڑا حسن ہے، ملاحظہ ہو : غایة المرام رقم ١١٢)
قال الشيخ الألباني : ضعيف، لکن الدعاء حسن، الروض النضير (1167) ، غاية المرام (112)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3500
Sayyidina Abu Hurayrah reported that a man said, “O Messenger of Allah, I heard your prayer tonight. So the portion of it I heard is that you said: O Allah, forgive me my sins and make my home spacious for me and bless me in that which You have provided me of sustenance. The Prophet ﷺ asked him, “Did you find anything that has been omitted in it?” [Abu Dawud 5069, Ahmed 16599]