Sunan At-Tirmidhi 2294صحیح
نبی اکرم کا میزاب اور ڈول کی تعبیر بتانا
حدیث نمبر: 2294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ سَمْرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمِ إِذَا صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، وَقَالَ: هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ؟ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُروى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَوْفٍ، وَجَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمُ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ، قَالَ: وَهَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ مُخْتَصَرًا.
سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب ہمیں فجر پڑھا کر فارغ ہوتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے : کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ایک طویل قصے کے ضمن میں عوف اور جریر بن حازم سے مروی ہے، جسے یہ دونوں رجاء سے، رجاء، سمرہ سے اور سمرہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں ٣ - محمد بن بشار نے اسی طرح یہ حدیث وہب بن جریر سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٩٣ (١٣٨٦) ، والتعبیر ٤٨ (٧٠٤٧) ، صحیح مسلم/الرؤیا ٤ (٢٢٧٥) (تحفة الأشراف : ٤٦٣٠) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (1 / 198 - 199)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2294
Sayyidina Samurah ibn Jundub narrated: After the Prophet ﷺ used to finish the salah of fajr with us, he would turn to face the congregation and ask, “Has anyone of you seen tonight a dream?” [Bukhari 845, M2275, Ahmed 20115]