Sunan At-Tirmidhi 1265صحیح
مستعار چیز کا واپس کرنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 1265
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْخُطْبَةِ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ: الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ وَالزَّعِيمُ غَارِمٌ، وَالدَّيْنُ مَقْضِيٌّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَمُرَةَ، وَصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، وَأَنَسٍ، قَالَ: وَحَدِيثُ أَبِي أُمَامَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
ابوامامہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو حجۃ الوداع کے سال خطبہ میں فرماتے سنا : عاریت لی ہوئی چیز لوٹائی جائے گی، ضامن کو تاوان دینا ہوگا اور قرض واجب الاداء ہوگا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابوامامہ (رض) کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اور یہ ابوامامہ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے اور بھی طریق سے مروی ہے، ٣ - اس باب میں سمرہ، صفوان بن امیہ اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصدقات ٥ (٢٣٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٨٤) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2398)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1265
Sayyidina Abu Umamah (RA) reported having heard Allah’s Messenger ﷺ say during his sermon of the Farewell pilgrimage, ‘What is borrowed must be returned, the guarantor is held responsible, and a debt must be repayed.” [Abu Dawud 3565, Ibn e Majah 2398, Ahmed 22357] --------------------------------------------------------------------------------