Sunan At-Tirmidhi 1260صحیح
مکاتب کے پاس ادائیگی کے لئے مال ہو تو ؟
حدیث نمبر: 1260
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ يَقُولُ: مَنْ كَاتَبَ عَبْدَهُ عَلَى مِائَةِ، أُوقِيَّةٍ فَأَدَّاهَا إِلَّا عَشْرَ أَوَاقٍ، أَوْ قَالَ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ، ثُمَّ عَجَزَ فَهُوَ رَقِيقٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الْمُكَاتَبَ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ كِتَابَتِهِ، وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن عمر و (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو خطبہ کے دوران کہتے سنا : جو اپنے غلام سے سو اوقیہ (بارہ سو درہم) پر مکاتبت کرے اور وہ دس اوقیہ کے علاوہ تمام ادا کر دے پھر باقی کی ادائیگی سے وہ عاجز رہے تو وہ غلام ہی رہے گا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - حجاج بن ارطاۃ نے بھی عمرو بن شعیب سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب تک مکاتب پر کچھ بھی زر کتابت باقی ہے وہ غلام ہی رہے گا۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ العتق ١ (٣٩٢٦) ، ٣٩٢٧ سنن ابن ماجہ/العتق ٣ (٢٥١٩) (تحفة الأشراف : ٨٨١٤) (حسن )
قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (2519)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1260
Amr ibn Shu’ayb reported on the authority his father from his grand father that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “If anyone agrees to set free his slave at a hundred ooqiyah and he pays it except ten ooqiyah or, he said ten dirhams then he remains to be a slave.” [Abu Dawud 3927, Ibn e Majah 2519, Ahmed 6678]