Sunan At-Tirmidhi 933صحیح
عمرے کی فضیلت
حدیث نمبر: 933
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُمَيٍّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ تُكَفِّرُ مَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ایک عمرے کے بعد دوسرا عمرہ درمیان کے تمام گناہ مٹا دیتا ہے ١ ؎ اور حج مقبول ٢ ؎ کا بدلہ جنت ہی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٧٩ (١٣٤٩) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٥٥٦) ، مسند احمد (٢/٢٤٦، ٤٦١) (صحیح) وأخرجہ کل من : صحیح البخاری/العمرة (١٧٧٣) ، صحیح مسلم/الحج (المصدرالمذکور) سنن النسائی/الحج ٣ (٢٦٢٣) ، و ٥ (٢٦٣٠) ، سنن ابن ماجہ/المناسک ٣ (٢٨٨٨) ، موطا امام مالک/الحج ٢١ (٦٥) ، مسند احمد (٢/٢٦٢) ، سنن الدارمی/المناسک ٧ (١٨٠٢) ، من غیر ہذا الطریق۔
وضاحت : ١ ؎ : مراد صغائر ( چھوٹے گناہ ) ہیں نہ کہ کبائر ( بڑے گناہ ) کیونکہ کبائر بغیر توبہ کے معاف نہیں ہوتے۔ ٢ ؎ : حج مقبول وہ حج ہے جس میں کسی گناہ کی ملاوٹ نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2888)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 933
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “An Umrah till another umrah is expiation for what is between the two (of sins). And a Hajj that is accepted has no reward except Paradise for it.” [Ahmed9955, Bukhari 1773, Muslim 1349, Nisai 2625, Ibn e Majah 2888] --------------------------------------------------------------------------------