Sunan At-Tirmidhi 1700صحیح
گھڑ دوڑ
حدیث نمبر: 1700
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ، أَوْ خُفٍّ، أَوْ حَافِرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا : مقابلہ صرف تیر، اونٹ اور گھوڑوں میں جائز ہے ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ٦٧ (٢٥٧٤) ، سنن النسائی/الخیل ١٤ (٣٦١٥، ٣٦١٦، ٣٦١٩) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٣٨) ، و مسند احمد (٢/٢٥٦، ٣٥٨، ٤٢٥، ٤٧٤) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : بشرطیکہ یہ انعام کا مال مقابلے میں حصہ لینے والوں کی طرف سے نہ ہو ، اگر ان کی طرف سے ہے تو یہ قمار و جوا ہے جو جائز نہیں ہے ، معلوم ہوا کہ مقررہ انعام کی صورت میں مقابلے کرانا درست ہے ، لیکن یہ مقابلے صرف انہی کھیلوں میں جائز ہیں ، جن کے ذریعہ نوجوانوں میں جنگی و دفاعی ٹریننگ ہو ، کبوتر بازی ، غلیل بازی ، پتنگ بازی وغیرہ کے مقابلے تو سراسر ذہنی عیاشی کے سامان ہیں ، موجودہ دور کے کھیل بھی بیکار ہی ہیں۔
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2878)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1700
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger .iii said, “Stakes are allowed only in (three things) : archery, horse racing and camel-racing.’ [Ahmed 7484]