Sunan At-Tirmidhi 1638صحیح
اللہ کے راستے میں تیر اندازی کی فضیلت کے بارے میں۔
حدیث نمبر: 1638
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي نَجِيحٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَهُوَ لَهُ عَدْلُ مُحَرَّرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو نَجِيحٍ هُوَ عَمْرُو بْنُ عَبْسَةَ السُّلَمِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَزْرَقِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ.
ابونجیح عمرو بن عبسہ سلمی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس نے اللہ کی راہ میں ایک تیر مارا، وہ (ثواب میں) ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - ابونجیح کا نام عمرو بن عبسہ سلمی ہے، ٣ - عبداللہ بن ازرق سے مراد عبداللہ بن زید ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ العتق ١٤ (٣٩٦٥) ، سنن النسائی/الجہاد ٢٦ (٣١٤٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٦٨) ، و مسند احمد (٤/١٣، ٣٨٦) (صحیح )
قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2812)
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1638
Sayyidina Abu Najih Salami (RA) reported having heard Allah’s Messenger say, ‘If anyone throws an arrow in Allah’s cause then it is for him like setting free a slave.” [Abu Dawud 3965]