Sunan At-Tirmidhi 1592صحیح
بیعت نبی اکرم ﷺ۔
حدیث نمبر: 1592
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ قَالَ: عَلَى الْمَوْتِ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں نے سلمہ بن الاکوع (رض) سے پوچھا : حدیبیہ کے دن آپ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کس بات پر بیعت کی تھی ؟ انہوں نے کہا : موت پر ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١١٠ (٢٩٦٠) ، والمغازي ٣٥ (٤١٦٩) ، والأحکام ٤٣ (٧٢٠٦) ، و ٤٤ (٧٢٠٨) ، صحیح مسلم/الإمارة ١٨ (١٨٦٠) ، سنن النسائی/البیعة ٨ (٤١٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٣٦) ، و مسند احمد (٤/٤٧، ٥١، ٥٤) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : اس میں اور اس سے پہلے والی حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے ، کیونکہ اس حدیث کا بھی مفہوم یہ ہے کہ ہم نے میدان سے نہ بھاگنے کی بیعت کی تھی ، بھلے ہم اپنی جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھو بیٹھیں۔
قال الشيخ الألباني : صحيح
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1592
Yazid ibn Abu Ubayd narrated: I asked Salamab ibn Akwa (RA) ‘‘On what did you people pledge allegiance to Allah’s Messenger on the day of Hudaybiyah.” He said, ‘To die. [Bukhari 2960, Muslim 1860]