Sunan At-Tirmidhi 1549ضعیف
لڑائی سے پہلے اسلام کی دعوت دینا۔
حدیث نمبر: 1549
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْعَدَنِيُّ الْمَكِّيُّ وَيُكْنَى بِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الرَّجُلِ الصَّالِحِ هُوَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ، عَنْ ابْنِ عِصَامٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ جَيْشًا أَوْ سَرِيَّةً يَقُولُ لَهُمْ: إِذَا رَأَيْتُمْ مَسْجِدًا، أَوْ سَمِعْتُمْ مُؤَذِّنًا، فَلَا تَقْتُلُوا أَحَدًا ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
عصام مزنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کوئی لشکر یا سریہ بھیجتے تو ان سے فرماتے : جب تم کوئی مسجد دیکھو یا مؤذن کی آواز سنو تو کسی کو نہ مارو ١ ؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، اور یہ ابن عیینہ سے آئی ہے۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ١٠٠ (٢٦٣٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٠١) (ضعیف) (سند میں ” عبد الملک بن نوفل “ لین الحدیث، اور ” ابن عصام “ مجہول راوی ہیں )
وضاحت : ١ ؎ : یعنی جب اسلام کی کوئی علامت اور نشانی نظر آ جائے تو اس وقت تک حملہ نہ کیا جائے جب تک مومن اور کافر کے درمیان فرق واضح نہ ہوجائے۔
قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (454) // عندنا برقم (565 / 2635) //
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1549
Sayyidina Ibn Isam Muzani (RA) who had the honour of being a sahabi, narrated When Allah’s Messenger ﷺ sent an army anywhere, or a detachment, he would say to them, If you see a mosque or hear a mu’azzin then do not kill anyone. [Abu Dawud 2635, Ahmed 15714]