Sunan At-Tirmidhi 1019ضعیف
دوسرا
حدیث نمبر: 1019
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: عِمْرَانُ بْنُ أَنَسٍ الْمَكِّيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَ: وَعِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ مِصْرِيٌّ أَقْدَمُ وَأَثْبَتُ مِنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے مردوں کی اچھائیوں کو ذکر کیا کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ عمران بن انس مکی منکر الحدیث ہیں، ٢- بعض نے عطا سے اور عطا نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت کی ہے، ٣- عمران بن ابی انس مصری عمران بن انس مکی سے پہلے کے ہیں اور ان سے زیادہ ثقہ ہیں۔
تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٥٠ (٤٩٠٠) (تحفة الأشراف : ٧٣٢٨) (ضعیف) (سند میں عمران بن انس مکی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (1678) ، الروض النضير (482) // ضعيف الجامع الصغير (739) ، ضعيف أبي داود (1047 / 4900) //
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1019
Sayyidina lbn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Mention the goodness of your dead and desist from their evils.” [Abu Dawud 4900] --------------------------------------------------------------------------------