Sunan Abu Dawood 4666صحیح
فتنہ کے وقت لوگوں سے (غیر ضروری) گفتگو چھوڑ دینا چاہیے
حدیث نمبر: 4666
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ: قُلْتُلِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبِرْنَا عَنْ مَسِيرِكَ هَذَا أَعَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْيٌ رَأَيْتَهُ ؟ فَقَالَ: مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ وَلَكِنَّهُ رَأْيٌ رَأَيْتُهُ.
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) سے کہا : ہمیں آپ (معاویہ (رض) سے جنگ کے لیے) اپنی اس روانگی کے متعلق بتائیے کہ آیا رسول اللہ ﷺ کا کوئی حکم ہے جو انہوں نے آپ کو دیا ہے یا آپ کا اپنا خیال ہے جسے آپ درست سمجھتے ہیں، وہ بولے : مجھے رسول اللہ ﷺ نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ میری رائے ہے۔
تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٠٢٥٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/١٤٢، ١٤٨) (صحیح الإسناد )
Qais bin Abbad said: I said to ‘All (Allah be pleased with him): Tell me about this march of yours. Is this an order that the Messenger of Allah ﷺ had given you, or is this your opinion that you have? He said: The Messenger of Allah ﷺ did not give me any order; but this is an opinion that I have.