Sunan Abu Dawood 3545صحیح
باپ اپنے بیٹوں میں سے بعض کو ہدیہ دینے میں ترجیح دے دوسروں پر اس کا بیان
حدیث نمبر: 3545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ، وَأَشْهِدْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ، سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامًا ؟، وَقَالَتْ لِي: أَشْهِدْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَهُ إِخْوَةٌ ؟، فَقَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ ؟، قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ.
جابر (رض) کہتے ہیں بشیر (رض) کی بیوی نے (بشیر (رض) سے) کہا : اپنا غلام میرے بیٹے کو دے دیں اور رسول اللہ ﷺ کو اس بات پر میرے لیے گواہ بنادیں، تو بشیر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا : فلاں کی بیٹی (یعنی میری بیوی) نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو غلام ہبہ کروں (اس پر) رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا لوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس کے اور بھی بھائی ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : ان سب کو بھی تم نے ایسے ہی دیا ہے جیسے اسے دیا ہے کہا : نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ درست نہیں، اور میں تو صرف حق بات ہی کی گواہی دے سکتا ہوں (اس لیے اس ناحق بات کے لیے گواہ نہ بنوں گا) ١ ؎۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الھبات ٣ (١٦٢٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٧٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢٦) (صحیح )
وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے واضح ہوا کہ اولاد کے مابین عدل و انصاف واجب ہے اور بلا کسی شرعی عذر کے ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دینا یا خاص کرنا حرام و ناجائز ہے۔
Narrated Jabir: Bashirs wife said (to her husband): Give my son your slave, and call the Messenger of Allah ﷺ as witness for me. So he came to the Messenger of Allah ﷺ and said: The daughter of so-and-so has asked me to give her som my slave and said to me: Call the Messenger of Allah ﷺ as witness for her. He asked: Has he brothers? He replied: Yes. He again asked: Has he given them all the same as you have given him? He replied: No. He said: This is not good, and I will be a witness to what it right.