Sunan Abu Dawood 3476ضعیف
پانی روکنے کا بیان
حدیث نمبر: 3476
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ مَنْظُورٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: بُهَيْسَةُ،عَنْ أَبِيهَا، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ أَبِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَمِيصِهِ، فَجَعَلَ يُقَبِّلُ وَيَلْتَزِمُ، ثُمَّ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: الْمَاءُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: الْمِلْحُ، قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ ؟ قَالَ: أَنْ تَفْعَلَ الْخَيْرَ خَيْرٌ لَكَ.
بہیسہ نامی خاتون اپنے والد سے روایت کرتی ہیں کہ میرے والد نے نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی، (اجازت ملی) پہنچ کر آپ ﷺ کا کرتہ اٹھا کر آپ کو بوسہ دینے اور آپ سے لپٹنے لگے پھر پوچھا : اللہ کے نبی ! وہ کون سی چیز ہے جس کے دینے سے انکار کرنا جائز نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پانی پھر پوچھا : اللہ کے نبی ! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نمک پھر پوچھا : اللہ کے نبی ! (اور) کون سی چیز ہے جس کا روکنا درست نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جتنی بھی تو نیکی کرے (یعنی جو چیزیں بھی دے سکتا ہے دے) تیرے لیے بہتر ہے ۔
تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٦٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٩٧) (ضعیف) (اس کے راوی ، اس کے رواة سیار اور ان کے والد منظور لین الحدیث ہیں اور بہیسہ مجہول ہیں )
Narrated Buhaisah (RA) : On the authority of her father: My father asked the Prophet ﷺ for permission (to kiss his body). (When he was given permission), lifting his shirt he approached his body, and began to kiss and stick to him. He then asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Water. He asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He replied: Salt. He again asked: Prophet of Allah, what is the thing withholding of which is not lawful ? He said: That you do a good work is better for you.