Sunan Abu Dawood 337صحیح
زخمی یا معذور تیمم کرسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 337
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْطَاكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلًا جُرْحٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ احْتَلَمَ، فَأُمِرَ بِالِاغْتِسَالِ فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ، أَلَمْ يَكُنْ شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالَ.
عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس (رض) کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہوگیا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مرگیا، یہ بات رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا : ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں مارے، کیا لاعلمی کا علاج مسئلہ پوچھ لینا نہیں تھا ؟ ۔
تخریج دارالدعوہ : أخرجہ ابن ماجہ موصولاً برقم (٥٧٢) ، (تحفة الأشراف : ٥٩٧٢) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الطھارة ٦٩ (٧٧٩) (حسن )
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man was injured during the lifetime of the Messenger of Allah ﷺ ; he then had a sexual dream, and he was advised to wash and he washed himself. Consequently he died. When this was reported to the Messenger of Allah ﷺ he said: They killed him; may Allah kill them! Is not inquiry the cure of ignorance?