Sunan Abu Dawood 176صحیح
جب وضو ٹوٹنے میں شک ہو تو کیا کرے؟
حدیث نمبر: 176
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أُبَيِّ خَلَفٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُخَيَّلَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَا يَنْفَتِلْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا.
عباد بن تمیم کے چچا (عبداللہ بن زید بن عاصم الانصاری رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے یہ شکایت کی گئی کہ آدمی کو کبھی نماز میں شبہ ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ اسے خیال ہونے لگتا ہے (کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا) ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : جب تک کہ وہ آواز نہ سن لے، یا بو نہ سونگھ لے، نماز نہ توڑے ۔
تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤ (١٣٧) ، ٣٤ (١٧٧) ، البیوع ٥ (٢٠٥٦) ، صحیح مسلم/الطہارة ٢٦ (٣٦١) ، سنن النسائی/الطھارة ١١٥ (١٦٠) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٧٤ (٥١٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٩، ٤٠) (صحیح )
Abbad bin Tamim reported from his uncle that a person made a complaint to the Prophet ﷺ that he entertained (doubt) as if something had happened to him which had rendered his ablution invalid. He (the Prophet) said: He should not cease (to pray) unless he hears a sound or perceives a smell (of passing wind).