Anwar-ul-Bayan - Az-Zumar : 47
وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا
وَلَئِنْ : اور اگر اَصَابَكُمْ : تمہیں پہنچے فَضْلٌ : کوئی فضل مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے لَيَقُوْلَنَّ : تو ضرور کہے گا كَاَنْ : گویا لَّمْ تَكُنْ : نہ تھی بَيْنَكُمْ : تمہارے درمیان وَبَيْنَهٗ : اور اس کے درمیان مَوَدَّةٌ : کوئی دوستی يّٰلَيْتَنِيْ : اے کاش میں كُنْتُ : میں ہوتا مَعَھُمْ : ان کے ساتھ فَاَفُوْزَ : تو مراد پاتا فَوْزًا : مراد عَظِيْمًا : بڑی
پھر اسی سے پیٹ بھرو گے
(56:53) فما لئون :عاطفہ ہے۔ مالئون اسم فاعل جمع مذکر۔ ملأ (باب فتح) مصدر۔ م ل ء حروف مادہ ۔ بمعنی بھرنا۔ الملأ: اس جماعت کو کہتے ہیں جو کسی امر پر مجتمع ہو تو نظروں کو ظاہری حسن و جمال سے اور نفوس کو ہیبت و جلال سے بھر دے۔ سردار۔ مالئون تم بھرنے والے ہوگے۔ تم بھرو گے (اس کو کھاکر) ۔ منھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب شجر کے لئے ہے جو اسم جنس ہے اور مذکر و مؤنث ہر دو طرح استعمال ہوتا ہے۔ جیسے کہ اگلی آیت میں علیہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائبشجر کی طرف راجع ہے۔ البطون : بطن کی جمع ۔ پیٹ، بطن، منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہے۔
Top