Urwatul-Wusqaa - Al-Waaqia : 44
لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ
لَّا بَارِدٍ : نہ ٹھنڈے وَّلَا كَرِيْمٍ : اور نہ آرام دہ
نہ اس میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ ہی فرحت ہو گی
نہ تو اس سایہ میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ ہی فرحت بخشے گا 44۔ سائے کا اصل تصور ہی یہ ہے کہ آدمی سائے میں چلا جائے تو اس کو ٹھنڈ محسوس ہو اور اس کی طبیعت کی گھبراہٹ دور ہوجائے لیکن ایسا سایہ جو گرمی کے موسم میں مزید گرمی بنائے اور اس سایہ میں انسان کا دم گھٹنے لگے تو وہ یہ سایہ سایہ نہیں بلکہ عذا بِ الٰہی ہو سکتا ہے اور اس جگہ عذاب ہی کے مفہوم میں یہ استعمال ہوا ہے کہ نہ تو اس میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ ہی اس فرحت حاصل ہوگی بلکہ گرم ماحول میں وہ مزید حبس پیدا کر دے گا۔ { بارِد } ٹھنڈا نہیں ہوگا کریمٍصفت مشبہ واحد کرام جمع اور اس کے معنی ہیں عزت والا ‘ خوش کن اور اس جگہ فی کا صیغہ ہے یعنی وہ سایہ خوش کن نہیں ہوگا بلکہ تکلیف دہ ہوگا کہ نہ تو اس میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ فرحت بخشے گا۔
Top