Al-Quran-al-Kareem - Al-An'aam : 131
ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ
ذٰلِكَ : یہ اَنْ : اس لیے کہ لَّمْ يَكُنْ : نہیں ہے رَّبُّكَ : تیرا رب مُهْلِكَ : ہلاک کر ڈالنے والا الْقُرٰي : بستیاں بِظُلْمٍ : ظلم سے (ظلم کی سزا میں) وَّاَهْلُهَا : جبکہ ان کے لوگ غٰفِلُوْنَ : بیخبر ہوں
اور وہی ہے جو تمہیں رات کو قبض کرلیتا ہے اور جانتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کمایا، پھر وہ تمہیں اس میں اٹھا دیتا ہے، تاکہ مقرر مدت پوری کی جائے، پھر اسی کی طرف تمہارا لوٹنا ہے، پھر وہ تمہیں بتائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے۔
يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ یہاں قبض کرنے سے مراد نیند ہے۔ ”تَوَفِّیْ“ کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة زمر (12)۔ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ : یعنی دن کے وقت تمہاری روح لوٹا دیتا ہے، معلوم ہوا کہ نیند بھی ایک طرح کی موت ہے۔ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ۚ : یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے جو رزق اور عمر متعین ہے وہ پوری کی جاتی ہے۔ ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ۔۔ : یعنی دن میں تمہاری روح لوٹا کر زندہ کردیتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ تم نے اچھے عمل کیے یا برے، پھر اچھا کام کیا ہوگا تو اچھا بدلہ دے گا اور برا کیا ہوگا تو برا بدلہ دے گا۔ اوپر کی آیت میں کمال علم کا بیان تھا اور اس سے کمال قدرت ثابت ہوتی ہے۔ (رازی)
Top