Jawahir-ul-Quran - Al-Furqaan : 22
وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا
وَلَقَدْ اَتَوْا : اور تحقیق وہ آئے عَلَي : پر الْقَرْيَةِ : بستی الَّتِيْٓ : وہ جس پر اُمْطِرَتْ : برسائی گئی مَطَرَ السَّوْءِ : بری بارش اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا : تو کیا وہ نہ تھے يَرَوْنَهَا : اس کو دیکھتے بَلْ : بلکہ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ : وہ امید نہیں رکھتے نُشُوْرًا : جی اٹھنا
جس دن18 دیکھیں گے فرشتوں کو کچھ خوشخبری نہیں اس دن گناہ گاروں کو اور کہیں گے کہیں روک دی جائے کوئی آڑ
18:۔ ” یوم یرون الخ “ یہ پانچویں شکوے کا جواب ہے یہ مطالبہ محض ان کی ضد اور سرکشی ہے ورنہ جس دن وہ فرشتوں کو دیکھ لیں گے اس دن انہیں کوئی خوشی حاصل نہیں ہوگی۔ اس دن فرشتے کہیں گے آج مجرموں کو ہر خوشی اور مسرت سے کوسوں دور رکھا جائے گا۔ ” حجرا “ مفعول مطلق ہے اور اس کا فعل متروک ہے۔ اور ” محجورا “ اس کی تاکید ہے وھو من المصار المنصوبۃ بافعال متروک اظھارھا و محجورا لتاکید معنی الحجر کما قالوا موت مائت (مدارک ج 3 ص 125) ۔
Top