Tadabbur-e-Quran - Al-Waaqia : 45
اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ
اِنَّهُمْ كَانُوْا : کیونکہ وہ تھے قَبْلَ ذٰلِكَ : اس سے پہلے مُتْرَفِيْنَ : نعمتوں میں پہلے ہوئے
یہ لوگ اس سے پہلے خوش حالوں میں تھے
(یہ ان کے ان بڑے جرائم کی طرف اشارہ ہے جن کے سبب سے وہ اس انجام بد گو پہنچے۔ اسلوب بیان سے معلومہوتا ہے کہ گویا وہ دن لوگوں کے سامنے حاضر کردیا گیا ہے اور یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ بد قسمت لوگ اس انجام کو پہنچے تو کیوں پہنچے !) (انھم گانو قبل ذلک مترفین) فرمایا کہ یہ لوگ اس سے پہلے یعنی دنیا میں بڑے مالدار اور عیش و رفاہیت والے رہے ہیں۔ یہ بات ان کے جرم کی حیثیت سے نہیں بیان ہوئی ہے بلکہ اس سے ان کے ان جرائم کی سنگینی واضح ہو رہی ہے جو آگے بیان ہوئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تو ان کو عیش و آرام اور دولت و ثروت سے نوازا جس کا حق یہ تھا کہ وہ اس کے شکر گزارو فرمانبردار بندے بنتے لیکن یہ اس سے استکبار میں مبتلا ہوئے اور سب سے بڑے گناہ پر برابر اصرار کرتے رہے۔ دوسرام مقصد اس سے اس پستی و بلندی کو نمایاں کرنا ہے جس کا ذکر قیامت کی صفت کی حیثیت سے ابتدائے سورة میں (خافضۃ رافعۃ) کے الفاظ سے ہوا ہے۔ یعنی دیکھ لو، دنیا میں جو لوگ سب سے اونچے اور سر بلند رہے وہ یہاں آ کر عذاب الٰہی کے کس کھڈ میں گرے ! (وگانو یصرون علی الحنث العظیم) حنث کے معنی گناہ کے ہیں۔ اس کی صفت یہاں عظیم آتی ہے جس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اس سے مراد شرک ہے۔ شرک فلسفہ دین کے نقطہ نظر سے بھی سب سے بڑا گناہ ہے اور قرآن نے بھی اس کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا ہے۔ (و گانو یقولون ایذا متنا و کنا ترابا و عظاما انا لمبعوثون اواباء نا الاولون) یہ ان کی دوسرے بڑے جرم کا ذکر ہے کہ وہ آخرت اور جزاء و سزا کے اس بنا پر منکر تھے کہ ان کے نزدیک مر کر سڑ گل جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ایک بالکل ناممکن بات تھی چناچہ جب ان کو آخرت کے حساب کتاب سے آگاہ کیا جاتا تو وہ اس کا مذاق اڑاتے کہ کیا جب ہم مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو از سر نو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے اور ہمارے اگلے آباء و اجداد بھی، جو مدتوں پہلے خاک میں مل چکے ہیں، از سر نو زندہ کیے جائیں گے، یعنی یہ بات انہونی ہے اور جو لوگ اس سے ڈرا رہے ہیں وہ محض ہم کو بیوقوف بنا رہے ہیں اور وہ خود بھی عقل سے بالکل عاری ہیں۔
Top