Aasan Quran - Al-A'raaf : 74
مَا نَنْسَخْ مِنْ اٰیَةٍ اَوْ نُنْسِهَا نَاْتِ بِخَیْرٍ مِّنْهَاۤ اَوْ مِثْلِهَا١ؕ اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
مَا نَنْسَخْ : جو ہم منسوخ کرتے ہیں مِنْ آيَةٍ : کوئی آیت اَوْ نُنْسِهَا : یا اسے بھلا دیتے ہیں نَأْتِ : لے آتے ہیں بِخَيْرٍ : بہتر مِنْهَا : اس سے اَوْ مِثْلِهَا : یا اس جیسا اَلَمْ : کیا نہیں تَعْلَمْ : جانتے تم اَنَّ اللہ : کہ اللہ عَلٰى : پر كُلِّ شَیْءٍ : ہر شے قَدِیْرٌ : قادر
اللہ فرمائے گا کہ : جاؤ، جنات اور انسانوں کے ان گروہوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہوجاؤ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ (اسی طرح) جب بھی کوئی گروہ دوزخ میں داخل ہوگا وہ اپنے جیسوں پر لعنت بھیجے گا (20) یہاں تک کہ جب ایک کے بعد ایک، سب اس میں اکٹھے ہوجائیں گے تو ان میں سے جو لوگ بعد میں آئے تھے، وہ اپنے سے پہلے آنے والوں کے بارے میں کہیں گے کہ : اے ہمارے پروردگار ! انہوں نے ہمیں غلط راستے پر ڈالا تھا، اس لیے ان کو آگ کا دگنا عذاب دینا۔ اللہ فرمائے گا کہ : سبھی کا عذاب دگنا ہے، (21) لیکن تمہیں (ابھی) پتہ نہیں ہے۔
20: جو لوگ سرداروں کے ماتحت تھے وہ اپنے ان سرداروں پر لعنت بھیجیں گے جنہوں نے انہیں گمراہ کیا تھا اور سردار اپنے ماتحتوں پر لعنت بھیجیں گے کہ انہوں نے ان کی حد سے زیادہ تعظیم کرکے انہیں گمراہی میں اور پختہ کردیا۔ 21: مطلب یہ ہے کہ ہر ایک کا عذاب پہلے سے زیادہ ہوتا جائے گا۔ لہذا اگر سرداروں کو اس وقت دگنا عذاب دے دیا جائے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خود تم اتنے شدید عذاب سے محفوظ رہو گے، بلکہ ایک وقت آئے گا کہ خود تمہارا عذاب بھی بڑھ کر ان کے موجودہ عذاب کے برابر ہوجائے گا، چاہے ان کا عذاب اس وقت اور بڑھ جائے۔
Top