Tafseer-e-Usmani - Al-Baqara : 170
وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّذِیْ یَنْعِقُ بِمَا لَا یَسْمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّ نِدَآءً١ؕ صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ
وَمَثَلُ : اور مثال الَّذِيْنَ : جن لوگوں نے كَفَرُوْا : کفر کیا كَمَثَلِ : مانند حالت الَّذِيْ : وہ جو يَنْعِقُ :پکارتا ہے بِمَا : اس کو جو لَا يَسْمَعُ : نہیں سنتا اِلَّا : سوائے دُعَآءً : پکارنا وَّنِدَآءً : اور چلانا صُمٌّۢ : بہرے بُكْمٌ : گونگے عُمْيٌ : اندھے فَهُمْ : پس وہ لَا يَعْقِلُوْنَ : پس وہ نہیں سمجھتے
اور جب کوئی ان سے کہے کہ تابعداری کرو اس حکم کی جو کہ نازل فرمایا اللہ نے تو کہتے ہیں ہرگز نہیں ہم تو تابعداری کریں گے اس کی جس پر دیکھا ہم نے اپنے باپ دادوں کو بھلا اگرچہ ان کے باپ دادے نہ سمجھتے ہوں کچھ بھی اور نہ جانتے ہوں سیدھی راہ1
1  یعنی حق تعالیٰ کے احکام کے مقابلہ میں اپنے باپ دادا کا اتباع کرتے ہیں اور یہ بھی شرک ہے چناچہ بعض جہال مسلمان بھی ترک نکاح بیوگاں وغیرہ رسوم باطلہ میں ایسی بات کہہ گزرتے ہیں اور بعض زبان سے گو نہ کہیں مگر عمل درآمد سے ان کے ایسا ہی مترشح ہوتا ہے سو یہ بات اسلام کے خلاف ہے۔
Top