Tafseer-e-Usmani - Al-Israa : 45
قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ
قُلْ : آپ کہ دیں اَغَيْرَ : کیا سوائے اللّٰهِ : اللہ اَتَّخِذُ : میں بناؤں وَلِيًّا : کارساز فَاطِرِ : بنانے والا السَّمٰوٰتِ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضِ : زمین وَهُوَ : اور وہ يُطْعِمُ : کھلاتا ہے وَلَا يُطْعَمُ : اور وہ کھاتا نہیں قُلْ : آپ کہ دیں اِنِّىْٓ اُمِرْتُ : بیشک مجھ کو حکم دیا گیا اَنْ : کہ اَكُوْنَ : میں ہوجاؤں اَوَّلَ : سب سے پہلا مَنْ : جو۔ جس اَسْلَمَ : حکم مانا وَ : اور لَا تَكُوْنَنَّ : تو ہرگز نہ ہو مِنَ : سے الْمُشْرِكِيْنَ : شرک کرنے والے
اور جب تو پڑھتا ہے قرآن کردیتے ہیں ہم بیچ میں تیرے اور ان لوگوں کے جو نہیں مانتے آخرت کو ایک پردہ چھپا ہوا4
4 جو شخص آخرت کو نہ مانے اور اپنے بھلے برے انجام کی کچھ فکر نہ رکھے وہ نصیحت کی طرف کیوں دھیان کرنے لگا۔ جب اسے نجات ہی کی فکر نہیں تو نجات دلانے والے پیغمبر کے احوال و اقوال میں غور کرنے اور بارگاہ رسالت تک پہنچنے کی کیا ضرورت ہوگی۔ بس یہ ہی عدم ایمان بالآخرت اور انجام کی طرف سے بےفکری وہ معنوی پردہ ہے جو اس شخص کے اور نبی (من حیث ہو نبی) کے درمیان لٹکا دیا جاتا ہے۔
Top