Fahm-ul-Quran - Al-A'raaf : 146
وَ كَتَبْنَا لَهٗ فِی الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ مَّوْعِظَةً وَّ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ١ۚ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّ اْمُرْ قَوْمَكَ یَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا١ؕ سَاُورِیْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِیْنَ
وَكَتَبْنَا : اور ہم نے لکھدی لَهٗ : اس کے لیے فِي : میں الْاَلْوَاحِ : تختیاں مِنْ : سے كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز مَّوْعِظَةً : نصیحت وَّتَفْصِيْلًا : اور تفصیل لِّكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کی فَخُذْهَا : پس تو اسے پکڑ لے بِقُوَّةٍ : قوت سے وَّاْمُرْ : اور حکم دے قَوْمَكَ : اپنی قوم يَاْخُذُوْا : وہ پکڑیں (اختیار کریں) بِاَحْسَنِهَا : اس کی اچھی باتیں سَاُورِيْكُمْ : عنقریب میں تمہیں دکھاؤں گا دَارَ الْفٰسِقِيْنَ : نافرمانوں کا گھر
میں ایسے لوگوں کو اپنے احکام سے برگشتہ ہی رکھوں گا جو دنیا میں تکبر کرتے ہیں جس کا ان کو کوئی حق حاصل نہیں۔ (ف 2) اور اگر تمام نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لاویں اور اگر ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا (طریقہ) نہ بناویں اور اگر گمراہی کا رستہ دیکھ لیں تو اس کو اپنا (طریقہ) بنالیں (ف 3) اور یہ اس سبب سے ہے کہ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلایا اور ان سے غافل رہے۔ (146)
2۔ کیونکہ اپنے کو بڑا سمجھنا حق اس کا ہے جو واقع میں بڑا ہو اور وہ ایک خدا کی ذات ہے۔ 3۔ یعنی حق کے قبول نہ کرنے سے پھر دل سخت ہوجاتا ہے اور برگشتگی اس حدتک پہنچ جاتی ہے۔
Top