Ruh-ul-Quran - Al-Waaqia : 45
اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ
اِنَّهُمْ كَانُوْا : کیونکہ وہ تھے قَبْلَ ذٰلِكَ : اس سے پہلے مُتْرَفِيْنَ : نعمتوں میں پہلے ہوئے
یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے پہلے خوشحال تھے
اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ ۔ وَکَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ ۔ وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ 5 لا اَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۔ اَوَاٰبَـآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 45 تا 48) (یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے پہلے خوشحال تھے۔ اور سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کیے جائیں گے۔ اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ ) اصحابُ الشمال کے بڑے بڑے جرائم کا ذکر گزشتہ آیات میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے اب ان کے بڑے بڑے جرائم کا ذکر کیا جارہا ہے اور یہی وہ جرائم ہیں جن کے سبب سے وہ انجامِ بد کو پہنچے۔ ان میں سے پہلا جرم یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں بڑے مالدار اور خوشحال تھے۔ ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی گزر رہی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں پر شکر کرنے کی بجائے استکبار کا رویہ اختیار کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کے جواب میں یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں بھی رفاہیت بخشی ہے اور آخرت میں بھی ہمیں سرافراز کرے گا۔ اور جہاں تک تم مسلمانوں کا تعلق ہے تم دنیا میں بھی دھکے کھا رہے ہو اور آخرت میں بھی تمہارا مقدر محرومیاں ہوں گی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا حال یہ تھا کہ وہ گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ عظیم کے لفظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے شرک کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا ہے۔ ہزار سمجھانے کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے کی بجائے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ اور جب انھیں ان کے انجامِ بد سے ڈرایا جاتا اور آخرت یاد دلائی جاتی تو وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ آخرت کو ماننے کا مطلب تو یہ ہے کہ جب ہم مرجائیں گے اور ایک عرصہ گزرنے کے بعد ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں تک الگ الگ ہوجائیں گی تو ہم ازسرنو زندہ کیے جائیں گے۔ بلکہ صرف ہم ہی نہیں تمہاری باتوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے و آبائواجداد بھی زندہ کیے جائیں گے جو مدتوں پہلے گزر چکے ہیں اور پھر وہ نہایت برہمی کے انداز میں پوچھتے کہ تم ہی کہو کہ ایسی انہونی باتیں قابل قبول ہوسکتی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم محض لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہو۔
Top