Mutaliya-e-Quran - Al-Furqaan : 33
وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا
وَيَوْمَ : اور جس دن يَعَضُّ : کاٹ کھائے گا الظَّالِمُ : ظالم عَلٰي يَدَيْهِ : اپنے ہاتھوں کو يَقُوْلُ : وہ کہے گا يٰلَيْتَنِي : اے کاش ! میں اتَّخَذْتُ : پکڑ لیتا مَعَ الرَّسُوْلِ : رسول کے ساتھ سَبِيْلًا : راستہ
اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے) کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات (یا عجیب سوال) لے کر آئے، اُس کا ٹھیک جواب بر وقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی
وَلَا يَاْتُوْنَكَ [ وہ لوگ نہیں لاتے آپ ؐ کے پاس ] بِمَثَلٍ [ کوئی مثال ] اِلَّا [ مگر یہ کہ ] جِئْنٰكَ [ ہم لے آتے ہیں آپ ﷺ کے پاس ] بِالْحَقِّ [ حق کو ] وَاَحْسَنَ [ اور زیادہ اچھے کو ] تَفْسِيْرًا [ بلحاظ معنی مراد بتانے کے ] س د (ن۔ ض) فسرا ڈھکی ہوئی چیز کو کھول دینا۔ مراد بتانا۔ واضح کرنا۔ (تفعیل) تفسیرا بتدریج اور تسلسل کے ساتھ مراد بتانا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 33
Top