Al-Qurtubi - Al-Waaqia : 39
ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ
ثُلَّةٌ : ایک بڑا گروہ ہوگا مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ : پہلوں میں سے
(یہ) بہت سے تو اگلے لوگوں میں سے ہیں
ثلۃ من الاولین۔ وکلۃ من الاخرین۔ یہ کلام اللہ تعالیٰ کے فرمان واصحب الیمین ما اصحب الیمین۔ کی طراف راجع ہے یعنی ہم ثلۃ من الاولین و ثلۃ من الآخرین اس کے متعلق گفتگو پہلے گزر چکی ہے۔ ابو العالیہ، مجاہد، عطاء بن ابی رباح اور ضحاک نے کہا : کلۃ من الاولین۔ یعنی اس امت کے سابقین میں سے جماعت وکلۃ من الاخرین۔ اسی امت کے آخرین میں سے جماعت ہوگی۔ اس آیت کی تفسیر پر وہ روایت دلالت کرتی ہے جو حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” یہ سب میری امت سے تعلق رکھتے ہیں “ (6) واحدی نے کہا : اصحاب جنت نصف نصف ہوں گے نصف سابقہ امتوں میں سے اور نصف اس امت سے۔ ابن ماجہ نے اپنی سنن میں اور ترمذی نے اپنی جامع میں حضرت بریدہ بن خصیب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ان میں سے اسی صفیں اس امت کی اور چالیس باقی امتوں کی ہوں گی “ (7) ابو عیسیٰ امام ترمذی نے کہا : یہ 1 ؎۔ خوشامد کرنے والی۔ 2 ؎۔ نازو نخرے کرنے والی 3 ؎۔ تفسیر ماوردی، جلد 5، صفحہ 456 4 ؎؎۔ ایضاً 5 ؎۔ ایضاً 6 ؎۔ المحرر الوجیز، جلد 5، صفحہ 245 7 ؎۔ جامع ترمذی، کتاب صفۃ الجنۃ، ماجاء فی صف اھل الجنۃ جلد 2 صفحہ 77، ایضاً ، حدیث نمبر 2469، ضیاء القرآن پبلی کیشنز سنن ابن ماجہ، کتاب الزہد، صاب صلۃ امت محمدیہ ﷺ حدیث نمبر 4278، ضیاء القرآن پبلی کیشنز حدیث حسن ہے۔ ثلبۃ مبتداء ہونے کی حیثیت سے مرفوع ہے اور خبر محذوف ہے معنی یہ بنے گا لا صحاب الیمین ثلتان، ثلۃ من ھولاء و ثلۃ من ھولاء یعنی ایک جماعت ان سے اور ایک جماعت ان سے۔ پہلے سابقہ امتوں میں سے ہوں گے اور دوسرے اس امت کے ہوں گے۔ یہ دوسرے قول کی بناء پر ہے۔
Top