Tafseer-e-Mazhari - Nooh : 13
وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا
وَلَقَدْ صَرَّفْنَا : ور ہم نے طرح طرح سے بیان کیا لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے فِيْ : میں هٰذَا الْقُرْاٰنِ : اس قرآن مِنْ : سے كُلِّ مَثَلٍ : ہر مثال فَاَبٰٓى : پس قبول نہ کیا اَكْثَرُ النَّاسِ : اکثر لوگ اِلَّا : سوائے كُفُوْرًا : ناشکری
اس سے نہ تو سر میں درد ہوگا اور نہ انکی عقلیں زائل ہوں گی
(56:19) لا یصدعون مضارع منفی مجہول جمع مذکر غائب تصدیع (تفعیل) مصدر بمعنی سردرد ہونا۔ سرکا چکرانا ۔ نہ ان کو درد سر ہوگا۔ ان کے سر نہیں چکرائیں گے، صدع (باب فتح) مصدر سے بمعنی پھاڑنا۔ دو ٹکڑے کردینا۔ الگ الگ کردینا ۔ (باب تفعل) تصدع سے بمعنی منتشر ہونا۔ عنھا ای بسببھا۔ اس کی وجہ سے ، اس کے سبب سے۔ ولا ینزفون : واؤ عاطفہ، لا تنزفون مضارع منفی جمع مذکر غائب ، انزاف (افعال) مصدر ۔۔ وہ بےہوش اور خبطی نہ ہوں گے۔ انزاف (افعال) ونزف (باب ضرب) بمعنی مست و بیہوش ہوجانا۔
Top