Mazhar-ul-Quran - Al-An'aam : 90
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ
وَهُوَ : اور وہی الَّذِيْٓ : وہ۔ جو۔ جس اَنْشَاَكُمْ : پیدا کیا تمہیں مِّنْ : سے نَّفْسٍ : وجود۔ شخص وَّاحِدَةٍ : ایک فَمُسْتَقَرٌّ : پھر ایک ٹھکانہ وَّمُسْتَوْدَعٌ : اور سپرد کیے جانے کی جگہ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰيٰتِ : بیشک ہم نے کھول کر بیان کردیں آیتیں لِقَوْمٍ : لوگوں کے لیے يَّفْقَهُوْنَ : جو سمجھتے ہیں
یہ وہ جماعت ہے کہ جن کو اللہ نے ہدایت دی پس انہیں کی راہ کی تم بھی پیروی کرو (اے محبوب) تم فرماؤ کہ میں تم سے اس (تبلیغ قرآن) پر کچھ معاوضہ نہیں چاہتا یہ (قرآن) تو محض تمام جہان کے لئے ایک نصیحت ہے
اس آیت کا مطلب یہ ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بہ نسبت اور انبیاء کے قرآن ایک ایسا بڑا معجزہ دیا گیا ہے، جس کے سبب سے قیامت کے دن میری امت کی تعداد اور انبیاء کی امتوں سے زیادہ ہوگی، قرآن کی نصیحت کے مفید ہونے اور قیامت تک اس نصیحت کے اثر کے باقہ رہنے کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔
Top