Mutaliya-e-Quran - Al-Hijr : 88
لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ
لَا تَمُدَّنَّ : ہرگز نہ بڑھائیں آپ عَيْنَيْكَ : اپنی آنکھیں اِلٰى : طرف مَا مَتَّعْنَا : جو ہم نے برتنے کو دیا بِهٖٓ : اس کو اَزْوَاجًا : کئی جوڑے مِّنْهُمْ : ان کے وَلَا تَحْزَنْ : اور نہ غم کھائیں عَلَيْهِمْ : ان پر وَاخْفِضْ : اور جھکا دیں آپ جَنَاحَكَ : اپنے بازو لِلْمُؤْمِنِيْنَ : مومنوں کے لیے
تم اُس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ اِن کے حال پر اپنا دل کڑھاؤ انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو
[لَا تمدَّنَّ : آپ ﷺ ہرگز دراز مت کریں ] [ عَيْنَيْكَ : اپنی دونوں آنکھوں کو ] [ اِلٰى مَا : اس کی طرف ] [ مَتَّعْنَا : ہم نے برتنے کو دیا ] [ بِهٖٓ: جو ] [ اَزْوَاجًا : کچھ جوڑوں کو ] [ مِّنْهُمْ : ان میں سے ] [ وَلَا تَحْزَنْ : اور آپ ﷺ غم مت کھائیں ] [عَلَيْهِمْ : ان (کافروں) پر ] [ وَاخْفِضْ : اور آپ ﷺ نیچا رکھیں ] [ جَنَاحَكَ : اپنے پہلو کو ] [ لِلْمُؤْمِنِيْنَ : ایمان لانے والوں کے لئے ] خض [خَفْضًا : (ض) کسی چیز کو پست کرنا۔] [ اِخْفِضْ فعل امر ہے۔ تو پست کر۔ نیچا رکھ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 88 ۔ ] [خَافِضٌ اسم الفائل ہے۔ پست کرنے والا۔ خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ (پست کرنے والی بلند کرنے والی) 56:3 ۔] نوٹ۔ 1: المنجد میں مادہ ” خض “ کے افعال کے معانی باب سمع اور باب کرم کے تحت دیئے گئے ہیں۔ قرآن مجید میں اس کا فعل امر تین جگہ آیا ہے اور تینوں جگہ اِخْفِضْ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید میں یہ لفظ باب ضرب یا باب حسب سے آیا ہے۔ غالب امکان کے پیش نظر ہم نے اس کے معنی باب ضرب کے تحت دیئے ہیں۔
Top