Mazhar-ul-Quran - Al-Baqara : 62
وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ١۪ وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
وَاِنْ : اور اگر كُنْتُمْ : تم ہو فِیْ : میں رَيْبٍ : شک مِمَّا : سے جو نَزَّلْنَا : ہم نے اتارا عَلَىٰ عَبْدِنَا : اپنے بندہ پر فَأْتُوْا : تولے آؤ بِسُوْرَةٍ : ایک سورة مِنْ ۔ مِثْلِهِ : سے ۔ اس جیسی وَادْعُوْا : اور بلالو شُهَدَآءَكُمْ : اپنے مدد گار مِنْ دُوْنِ اللہِ : اللہ کے سوا اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم ہو صَادِقِیْنَ : سچے
بیشک جو لوگ مسلمان ہوئے اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور بےدین ، ان میں سے جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر (سچے دل سے) ایمان لائیں اور کام کریں اچھے تو ان کا ثواب ان کے پروردگار کے ہاں ہے اور ان پر نہ (کسی قسم کا) خوف (طاری) ہوگا اور نہ وہ (کسی طرح) آرزدہ خاطر ہوں گے
ایمان کیا چیز ہے ؟ صحیحین میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے قصہ کی جو حدیث ہے اس میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے سائل بن کر پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ آپ نے جو جواب دیا اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے سب رسولوں اور آسمانی کتابوں کے یقین کو ایمان کہتے ہیں ۔ اسی واسطے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت جو مسلم میں ہے اس میں آپ نے صاف فرمایا ہے کہ کوئی شخص خواہ یہودی ہو یا نصرانی میرا حال سن کر مجھ پر ایمان نہ لاوے گا تو ایسے شخص کا ٹھکانادوزخ ہے ۔
Top