Tafseer-e-Mazhari - Al-Furqaan : 3
لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے جو يُؤْلُوْنَ : قسم کھاتے ہیں مِنْ : سے نِّسَآئِهِمْ : عورتیں اپنی تَرَبُّصُ : انتظار اَرْبَعَةِ : چار اَشْهُرٍ : مہینے فَاِنْ : پھر اگر فَآءُوْ : رجوع کرلیں فَاِنَّ : تو بیشک اللّٰهَ : اللہ غَفُوْرٌ : بخشنے والا رَّحِيْمٌ : رحم کرنے والا
اور (لوگوں نے) اس کے سوا اور معبود بنا لئے ہیں جو کوئی چیز بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے گئے ہیں۔ اور نہ اپنے نقصان اور نفع کا کچھ اختیار رکھتے ہیں اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے اور نہ جینا اور نہ مر کر اُٹھ کھڑے ہونا
واتخذوا من دونہ الہۃ لا یخلقون شیئاً وہم یخلقون اور بنا رکھے ہیں انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے معبود جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود ان کو پیدا کیا جاتا ہے۔ اتَّخَذُوْا یعنی کفار مکہ نے بنا رکھے ہیں۔ مِنْ دُوْنِہٖاللہ کے سوا۔ لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْءًا جو نہ کسی جوہر کو پیدا کرتے نہ عرض کو نہ عمل و فعل کو نہ حالت کو۔ 1 ؂] 1 ؂ جو ممکن خود مستقل بالذات ہو اپنے وجود خارجی میں دوسرے کا محتاج نہ ہو اس کو جوہر کہتے ہیں جیسے تمام اجسام اور وجود خارجی میں اگر دوسرے کا محتاج ہو تو اس کو عرض کہتے ہیں جیسے سیاہی ‘ سرخی جسم کی محتاج ہے۔[ وَہُمْ یُخْلَقُوْنَ اور وہ پیدا کئے جاتے ہیں ‘ وہ مخلوق ہیں ‘ اللہ سب کا خالق ہے۔ عبارت کے الفاظ و معانی میں عموم ہے۔ تمام باطل معبودوں کو یہ لفظ شامل ہے لیکن مراد صرف بت ہیں۔ اس لئے یخلقون کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ پجاری خود اپنے بتوں کو تراشتے اور صورتیں بناتے ہیں۔ ولا یملکون لا نفسہم ضرا ولا نفعا اور وہ خود نہ اپنے ضرر پر قابو رکھتے ہیں نہ نفع پر۔ یعنی اگر اللہ ان کو دکھ پہنچانا چاہے تو وہ دکھ کو دفع نہیں کرسکتے۔ اگر مکھی سے کوئی چیز اڑا کرلے جائے تو وہ چھڑا نہیں سکتے اور نہ فائدہ حاصل کرنے کی ان میں قدرت ہے۔ نفع و نقصان پر قادر نہ ہونا صرف بتوں ہی کی خصوصیت نہیں بلکہ عالی مرتبہ پیغمبر جیسے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت عزیر اور تمام فرشتے سبھی عاجز ہیں ‘ اللہ نے فرمایا ہے قُلْ لاَّ اَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفَعًا وَلاَ ضَرًّا الاَّ مَا شَآء اللّٰہُ وَلَوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَاسْتَکْثَرْثُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْءُ ۔ ولا یملکون موتا ولا حیوۃ ولا نشورا۔ اور نہ وہ قابو رکھتے ہیں موت پر نہ زندگی پر نہ (دوبارہ) اٹھنے پر۔ یعنی ان میں قدرت نہیں کہ کسی پر موت کو مسلط کرسکیں یا کسی کو (ابتداً ) زندگی دے سکیں یا (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ کر کے اٹھا سکیں اور یہ تمام امور الوہیت کے لوازم ہیں جس کے اندر یہ لوازم نہیں وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔ آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ الٰہ کے لئے ضروری ہے کہ دوبارہ زندہ کر کے سزا و جزا دے سکے۔
Top