Tafseer-e-Majidi - Al-Waaqia : 44
لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ
لَّا بَارِدٍ : نہ ٹھنڈے وَّلَا كَرِيْمٍ : اور نہ آرام دہ
جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ فرحت بخش۔14۔
14۔ یعنی دنیا میں سایہ سے جو نفع بھی خیال میں آتے ہیں، خواہ جسمانی ہوں مثلا برودت یا نفسیانی مثلا لذت، یہ سب اس دوزخی سایہ سے منفی ہوں گے اور سایہ صرف نام ہی کا ہوگا ورنہ وہ نہ ٹھنڈک پہنچانے والا ہوگا نہ وہ کسی طرح پر آرام دہ۔ (آیت) ’ فی سموم۔ سموم “۔ کے معنی لوکی تیز لپٹ کے ہیں جو جسم کے اندر تک جھلس دے۔ السموم الریح الحارۃ التی توثر تاثیر السم (راغب) فی السموم اے فی حر نار ینفذ فی المسام (کشاف) (آیت) ” اصحب الشمال “۔ یعنی ہو جن کے بائیں ہاتھ میں ان کا نامہ اعمال دیا جائے گا۔ (آیت) ” اصحب المشئمۃ “۔ کا ذکر ابھی اوپر گزر چکا ہے۔ (آیت) ” ولا کریم “۔ عربی زبان میں کرم بہت وسیع معنی میں ہے۔ ہر قابل مدح صفت کو صفت کرم سے تعبیر کردیتے ہیں اور موقع نفی پر اس کا استعمال اکثر ہوتا ہے۔ وہ کل شیء شرفت فی بابہ فانہ یوصف بالکرم (راغب) والعرب تتسع ھذہ اللفظۃ فی النفی فیقولون ھذا الطعام لیس بطیب ولا کریم ھذا اللحم لیس بسمین ولا کریم وھذہ الدارلیست بنظیفۃ ولا کریمۃ (ابن جریر) (آیت) ” لاباردولاکریم “۔ مراد یہ ہے کہ وہ سایہ دنیا کے متعارف سایہ کے برعکس اور گرمی پہنچانے والا اور تکلیف دہ ہوگا۔ سماہ ظلا ثم نفی عنہ برد الظل وروحہ ونفعہ (کشاف) والمعنی انہ ظل حارضار (کشاف)
Top