Mutaliya-e-Quran - Al-Baqara : 138
فَجَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍؕ
فَجَعَلْنَا : پم ہم نے کردیا عَالِيَهَا : اس کے اوپر کا حصہ سَافِلَهَا : اس کے نیچے کا حصہ وَاَمْطَرْنَا : اور ہم نے برسائے عَلَيْهِمْ : ان پر حِجَارَةً : پتھر مِّنْ : سے سِجِّيْلٍ : سنگ گل (کھنگر)
کہو: "اللہ کا رنگ اختیار کرو اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا؟ اور ہم اُسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں"
(صِبْغَۃَ اللّٰہِ : (ہم قبول کرتے ہیں) اللہ کے دین کو) (وَمَنْ : اور کون) (اَحْسَنُ : زیادہ اچھا ہے) (مِنَ اللّٰہِ : اللہ سے) (صِبْغَۃً : بلحاظ دین کے) (وَنَحْنُ : اور ہم) (لَــہٗ : اس کی ہی ) (عٰبِدُوْنَ : بندگی کرنے والے ہیں) ص ب غ صَبَغَ (ف) صَبْغًا : کسی پر کوئی رنگ چڑھانا۔ بپتسمہ دینا۔ مذہب میں پختہ کرنا۔ صِبْغَۃٌ : مذہب کا رنگ ‘ بپتسمہ کا رنگ ‘ دین ( آیت زیر مطالعہ) صِبْغٌ : سالن یا سرکہ وغیرہ (کیونکہ ان میں پانی پر کوئی رنگ چڑھ جاتا ہے) ۔ { تَنْبُتُ بِالدُّھْنِ وَصِبْغٍ لِّلْاٰکِلِیْنَ } (المؤمنون :20) ” وہ اگتا ہے چکنائی کے ساتھ اور سالن کے ساتھ کھانوں والوں کے لئے۔ “ ترکیب : ” صِبْغَۃَ اللّٰہِ “ میں مضاف کی نصب بتار ہی ہے کہ یہ مرکب اضافی مفعول ہے اور اس کا فعل محذوف ہے جو کہ نَقْبَلُ یا ” اِتَّبِعُوْا “ ہوسکتا ہے۔ یا یہ بدل ہے ” مِلَّۃَ اِبْرٰھٖمَ “ سے۔ ” مَنْ “ مبتدأ‘ ” اَحْسَنُ “ خبر اور ” مِنَ اللّٰہِ “ متعلق خبر ہے ‘ جبکہ ” صِبْغَۃً ‘ اَحْسَنُ “ کی تمیز ہے۔ ” نَحْنُ “ مبتدأ اور ” عٰبِدُوْنَ “ خبر ہے ‘ جبکہ متعلق خبر ” لَـہٗ “ کو تاکید کے لئے مقدم کیا گیا ہے۔
Top