Jawahir-ul-Quran - Az-Zumar : 13
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
بَدِيْعُ : نئی طرح بنانے والا السَّمٰوٰتِ : آسمان (جمع) وَالْاَرْضِ : اور زمین اَنّٰى : کیونکر يَكُوْنُ : ہوسکتا ہے لَهٗ : اس کا وَلَدٌ : بیٹا وَّلَمْ تَكُنْ : اور جبکہ نہیں لَّهٗ : اس کی صَاحِبَةٌ : بیوی وَخَلَقَ : اور اس نے پیدا کی كُلَّ شَيْءٍ : ہر چیز وَهُوَ : اور وہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز عَلِيْمٌ : جاننے والا
یہ حدیں باندھی ہوئی اللہ کی ہیں اور جو کوئی حکم پر چلے اللہ کے اور رسول کے اس کو داخل کریگا جنتوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں گے ان میں16 اور یہی ہے بڑی مراد ملنی
16 یہ بشارت اخروی ہے۔ احکام میراث جن کی آئے دن ضرورت رہتی ہے بیان کرنے کے بعد فرمایا یہ اللہ کی حدود اور اس کے مقررہ احکام ہیں جو اللہ کے رسول کی وساطت سے بندوں کو دئیے گئے ہیں جو ان احکام پر ایمان لائیگا اور ان پر عمل کریگا اس کے لیے آخرت میں جنات نعیم اور نعیم مقیم کی بشارت ہے۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ الخ یہ ان لوگوں کے لیے تخویف اخروی ہے جو اللہ کی حدود کو توڑتے اور اس کے نافذ کردہ احکامِ میراث کو معطل کرتے اور ان کے مطابق وارثوں میں ترکہ تقسیم نہیں کرتے۔ عصیان سے یہاں عصیان کا کامل درجہ مراد ہے۔ یعنی جو شخص ان احکام پر ایمان نہ لائے وہ کافر ہے اور اس کی سزا یہ ہے کہ وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیگا جیسا کہ وَیَتَعدَّ حُدُودہٗ اس پر قرینہ ہے۔ اور جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے۔ وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللہُ فَاُولئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ (مائدہ رکوع 7) مسند امام احمد میں مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ کی مَنْ لَّمْ یَعْتَقِدْ سے تفسیر کی گئی ہے یعنی جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام پر ایمان نہ لائیں اور ان کے حق ہونیکا اعتقاد نہ رکھیں وہ کافر ہیں۔
Top